صحیح بخاری حدیث ۵۰۰۴ - قرآن جمع کرنے والے صحابہ
قرآن جمع کرنے والے چار صحابہ: حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۰۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۰۴
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، وَثُمَامَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ لَمْ يَجْمَعِ الْقُرْآنَ غَيْرُ أَرْبَعَةٍ : أَبُو الدَّرْدَاءِ ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَأَبُو زَيْدٍ ، قَالَ : وَنَحْنُ وَرِثْنَاهُ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک قرآن مجید کو چار صحابیوں کے سوا اور کسی نے جمع نہیں کیا تھا۔ ابودرداء ‘ معاذ بن جبل ‘ زید بن ثابت اور ابوزید رضی اللہ عنہم۔ انس نے کہا کہ ابوزید کے وارث ہم ہوئے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع قرآن جمع کرنے والے صحابہ ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وفات تک قرآن مجید کو چار صحابہ کے سوا کسی نے جمع نہیں کیا تھا: حضرت ابودرداء، حضرت معاذ بن جبل، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوزید رضی اللہ عنہم۔ روایت کے آخر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ابوزید کے وارث ہوئے۔ اس حدیث سے قرآن مجید کے ساتھ صحابہ کرام کے خاص تعلق کا پتا چلتا ہے۔ یہاں بات خاص طور پر ان افراد کی ہو رہی ہے جن کے بارے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے قرآن جمع کرنے کا ذکر کیا۔ اس لیے اس روایت کو پڑھتے وقت اصل توجہ “قرآن جمع کرنے والے صحابہ”، “حفاظ قرآن صحابہ” اور “صحابہ کرام کا قرآن سے تعلق” پر رہنی چاہیے۔ حدیث کا پیغام سادہ ہے کہ قرآن مجید کی حفاظت، یادداشت اور جمع کرنے کے کام میں کچھ صحابہ کو خاص مقام حاصل تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس حدیث میں چار صحابہ کے نام صاف طور پر بیان کیے گئے ہیں جنہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وفات تک قرآن جمع کیا تھا۔
- حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں قرآن جمع کرنے کے معاملے کو خاص صحابہ کے ساتھ بیان کیا۔
- قرآن مجید کے ساتھ صحابہ کرام کا تعلق علم، یادداشت اور حفاظت کے پہلو سے نمایاں تھا۔
- روایت کے آخر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوزید رضی اللہ عنہ سے اپنے وراثتی تعلق کا بھی ذکر کیا۔
