صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۱ - حافظ قرآن اور مسلسل دہرائی

حفظ قرآن کی حفاظت اور دہرائی کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۳۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ ، إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے اور وہ اس کی نگرانی رکھے گا تو وہ اسے روک سکے گا ورنہ وہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۱ کا خلاصہ

یہ حدیث حفظ قرآن کی دہرائی کی ضرورت بہت واضح مثال سے سمجھاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب قرآن، یعنی قرآن رکھنے والے شخص، کی مثال ایسے آدمی سے دی جس کے اونٹ رسی سے بندھے ہوں۔ اگر وہ ان کی نگرانی کرے گا تو انہیں روک لے گا، اور اگر چھوڑ دے گا تو وہ نکل جائیں گے۔ اسی طرح قرآن کی یاد بھی توجہ چاہتی ہے۔ اس حدیث میں کوئی مشکل بات نہیں: جو قرآن یاد کرے، اسے بار بار پڑھتا رہے۔ قرآن کی تلاوت، حفظ قرآن کی حفاظت، اور روزانہ دہرائی اس پیغام کے قریب الفاظ ہیں۔ حدیث ہمیں غفلت کے بجائے مستقل تعلق سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حفظ قرآن کو باقی رکھنے کے لیے دہرائی ضروری ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بات سمجھانے کے لیے اونٹ کی آسان مثال دی۔
  • قرآن کے ساتھ مسلسل تعلق نہ رہے تو یاد کمزور ہو سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں