صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۳ - قرآن کی پابندی اور دہرائی
قرآن مجید کو بار بار پڑھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۰۳۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۳۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنَ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا " .
ابوموسیٰ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قرآن مجید کا پڑھتے رہنا لازم پکڑ لو“ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے وہ اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے بھاگتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۳ کا خلاصہ
یہ حدیث قرآن کی پابندی کے بارے میں بہت مختصر اور زور دار نصیحت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن مجید کا پڑھتے رہنا لازم پکڑ لو۔ پھر قسم کے ساتھ فرمایا کہ قرآن اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے بھی زیادہ تیزی سے نکلتا ہے۔ یہاں اصل بات حفظ قرآن اور تلاوت قرآن کے مسلسل تعلق کی ہے۔ جو آدمی قرآن کو یاد رکھنا چاہتا ہے، وہ اسے وقفے وقفے سے پڑھتا رہے۔ حدیث میں کوئی اضافی شرط نہیں بیان ہوئی، اس لیے اسے سادہ طور پر سمجھنا چاہیے: قرآن سے غفلت نہ ہو، تلاوت جاری رہے، اور دہرائی کو معمول بنایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن پڑھتے رہنا حدیث کا صاف حکم ہے۔
- قرآن کی یاد کو باقی رکھنے کے لیے مسلسل دہرائی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی مثال سے غفلت کا نقصان سمجھایا۔
