صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۸ - رات کی تلاوت سے یاد دہانی
رات کی تلاوت اور قرآن کی یاد دہانی
صحیح بخاری : ۵۰۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۳۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقْرَأُ فِي سُورَةٍ بِاللَّيْلِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً كُنْتُ أُنْسِيتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا " .
احمد بن ابی رجاء روایت:
´ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو رات کے وقت ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو مجھے فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۸ کا خلاصہ
یہ حدیث رات کی تلاوت قرآن اور یاد دہانی کے بارے میں ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت ایک صاحب کو ایک سورت پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس شخص پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو فلاں فلاں سورتوں میں سے بھلا دی گئی تھیں۔ اس روایت میں ایک نرم اور خوبصورت بات ہے: کسی کی تلاوت سننا بھی یاد دہانی کا سبب بن سکتا ہے۔ یہاں ہمیں اسی قدر کہنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قاری کے لیے رحمت کی دعا فرمائی اور اس کی تلاوت سے آیات یاد آئیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسرے کی تلاوت سننا یاد دہانی کا سبب بن سکتا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قاری کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔
- رات کی تلاوت کا واقعہ حدیث میں صاف طور پر بیان ہوا ہے۔
