صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۹ - قرآن بھولنے کے الفاظ کا ادب
آیت بھولنے کے بارے میں درست لفظ
صحیح بخاری : ۵۰۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۳۹
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ :نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا بلکہ اسے (یوں کہنا چاہئے) کہ میں فلاں فلاں آیتوں کو بھلا دیا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۳۹ کا خلاصہ
یہ حدیث قرآن کے بارے میں بولنے کے ادب سے متعلق ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے: میں فلاں فلاں آیتیں بھول گیا، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ مجھے فلاں آیتیں بھلا دی گئیں۔ اس میں زبان کی اصلاح بھی ہے اور قرآن کے معاملے میں احتیاط بھی۔ یہ حدیث قرآن بھولنے کی حدیث کے طور پر تلاش کی جاتی ہے۔ اس میں لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک خاص جملے کی رہنمائی ہے۔ اس لیے بات کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بارے میں اپنی گفتگو میں ادب اور احتیاط رکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث نے آیت بھولنے کے لیے بہتر انداز بیان بتایا۔
- قرآن سے متعلق گفتگو میں الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
- یہ روایت خاص طور پر “میں بھول گیا” کے بجائے “مجھے بھلا دیا گیا” کہنے پر ہے۔
