صحیح بخاری حدیث ۵۰۴۲ - مسجد میں رات کی تلاوت
مسجد میں تلاوت اور آیات کی یاد دہانی
صحیح بخاری : ۵۰۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۴۲
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَارِئًا يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْكَرَنِي كَذَا وَكَذَا آيَةً أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ كَذَا وَكَذَا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاری کو رات کے وقت مسجد میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ اس آدمی پر رحم کرے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۴۲ کا خلاصہ
یہ روایت بتاتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت مسجد میں ایک قاری کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس آدمی پر رحم کرے، اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جنہیں میں نے فلاں فلاں سورتوں میں سے چھوڑ رکھا تھا۔ یہ حدیث تلاوت قرآن سننے کے اثر کو بیان کرتی ہے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ قاری مسجد میں رات کو پڑھ رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی۔ اس روایت سے کوئی لمبا حکم نکالنے کے بجائے اصل پیغام یہی ہے کہ قرآن کی تلاوت ایک دوسرے کے لیے یاد دہانی بن سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسجد میں رات کی تلاوت کا ذکر روایت میں آیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاری کے لیے رحمت کی دعا کی۔
- کسی کی تلاوت سن کر آیات یاد آ سکتی ہیں۔
