صحیح بخاری حدیث ۵۰۴۳ - جلدی جلدی تلاوت سے بچنا
قرآن کو جلدی جلدی نہ پڑھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۰۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۴۳
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : غَدَوْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَجُلٌ : " قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ ، فَقَالَ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ ، إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ ، وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
ہم ان کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے (تمام) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہو گی۔ ہم سے قرآت سنی ہے اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے۔ یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں «حم.» ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۴۳ کا خلاصہ
یہ حدیث قرآن کی قراءت کے انداز پر ایک اہم تنبیہ دیتی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس صبح کے وقت لوگ حاضر ہوئے۔ ایک شخص نے کہا کہ اس نے رات میں تمام مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں۔ اس پر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے شاید انہیں اس طرح جلدی جلدی پڑھا ہوگا جیسے اشعار جلدی پڑھے جاتے ہیں۔ پھر انہوں نے بتایا کہ انہوں نے قراءت سنی ہے اور انہیں وہ جوڑ والی سورتیں یاد ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں ملا کر پڑھا کرتے تھے۔ اس سے اصل سبق یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت صرف مقدار کا نام نہیں، پڑھنے کا انداز بھی اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کو بہت تیزی سے پڑھنے پر تنبیہ آئی ہے۔
- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قراءت کے سنے ہوئے انداز کا ذکر کیا۔
- روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز میں ملائی جانے والی سورتوں کا ذکر ہے۔
