صحیح بخاری حدیث ۵۰۷۳ - تبتل سے ممانعت

تبتل کی حدیث: عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۷۳

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ :رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ " ، وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا .

سعید بن مسیب روایت:

میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «تبتل» یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی سے منع فرمایا تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم تو خصی ہی ہو جاتے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۷۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے لیے تبتل، یعنی عورتوں سے الگ رہنے کی زندگی، کو قبول نہیں فرمایا۔ پھر سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔ اس روایت کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ دین میں خواہشات سے بچنے کے لیے نکاح اور عام انسانی زندگی سے مکمل کنارہ کشی کا راستہ نہیں اپنایا گیا۔ حدیث میں تبتل، نکاح، پاکدامنی اور جسم کو نقصان پہنچانے سے بچنے کا اشارہ ملتا ہے۔ بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی مستقل علیحدگی کی اجازت نہیں دی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تبتل یعنی عورتوں سے مکمل الگ رہنے کی زندگی کی اجازت نہیں دی گئی۔
  • خواہش سے بچنے کے لیے غیر فطری راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔
  • صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کو فیصلہ کن سمجھتے تھے۔
  • دین میں عبادت کے ساتھ عام انسانی ضرورتوں کا بھی لحاظ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں