صحیح بخاری حدیث ۵۰۷۴ - تبتل کی اجازت نہ دی گئی

تبتل سے ممانعت: دین میں فطری زندگی کی رہنمائی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۷۴

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ :أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، يَقُولُ : " لَقَدْ رَدَّ ذَلِكَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ ، وَلَوْ أَجَازَ لَهُ التَّبَتُّلَ لَاخْتَصَيْنَا " .

سعد بن ابی وقاص روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو عورت سے الگ رہنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس کی اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے آپ کو خصی بنا لیتے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۰۷۴ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی روایت کے قریب ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو تبتل کی اجازت نہیں دی۔ تبتل سے مراد عورت سے الگ رہنے والی زندگی ہے، جیسا کہ ترجمہ میں بیان ہوا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم بھی اپنے آپ کو خصی بنا لیتے۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ دین نے انسان کو اپنی فطری ضرورت سے بھاگنے کا حکم نہیں دیا۔ خواہشات کو قابو میں رکھنے کے لیے جائز اور متوازن طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، نہ کہ اپنے جسم کو نقصان پہنچانے والا راستہ۔ اس روایت میں نکاح، تبتل، پاکدامنی اور اعتدال جیسے اہم الفاظ شامل ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبتل کی اجازت نہیں دی۔
  • صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو پوری طرح مانتے تھے۔
  • خواہشات سے بچنے کے لیے جسمانی نقصان کا راستہ نہیں اپنایا گیا۔
  • اسلام میں پاکدامنی کے ساتھ فطری زندگی بھی برقرار رکھی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں