صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۹ - حج میں شرط لگانے کی حدیث
حج میں شرط لگانا: بیماری کی صورت میں آسانی کا بیان
صحیح بخاری : ۵۰۸۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۸۹
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ ، فَقَالَ لَهَا : لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ ؟ قَالَتْ : وَاللَّهِ لَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً ، فَقَالَ لَهَا : حُجِّي وَاشْتَرِطِي ، وَقُولِي : اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي "، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے (یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا تھے) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے (مرض کی وجہ سے) روک لے گا۔ اور (ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۸۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حج میں شرط لگانا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ شاید تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج کا احرام باندھو اور شرط لگا لو۔ پھر یہ الفاظ بتائے کہ اے اللہ! میں اسی جگہ حلال ہو جاؤں گی جہاں تو مجھے روک لے گا۔ اس حدیث میں حج کے ارادے، بیماری، احرام اور شرط کے الفاظ صاف طور پر بیان ہوئے ہیں۔ یہ روایت خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہم ہے جو حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہیں مگر بیماری یا رکاوٹ کا اندیشہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری کے باوجود حج کا ارادہ ہو تو شرط کے ساتھ احرام باندھنے کی صورت بیان ہوئی ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضباعہ رضی اللہ عنہا کو شرط کے الفاظ سکھائے۔
- احرام کی شرط میں بندہ اپنی رکاوٹ کو اللہ کے حوالے کرتا ہے۔
- حدیث میں بیماری کے حال کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ ایک واضح صورت بتائی گئی۔
