صحیح بخاری حدیث ۵۰۹۰ - دیندار عورت سے نکاح کی حدیث
دیندار عورت سے نکاح: رشتہ دیکھتے وقت اصل ترجیح کیا ہو؟
صحیح بخاری : ۵۰۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۰۹۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا ، وَلِحَسَبِهَا ، وَجَمَالِهَا ، وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی)۔
صحیح بخاری حدیث ۵۰۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع نکاح میں دین کو ترجیح دینا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے نکاح عام طور پر چار باتوں کی وجہ سے کیا جاتا ہے: مال، خاندان، خوبصورتی اور دین۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیندار عورت کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔ اس حدیث میں انسانی معاشرے کے عام رجحانات بھی بیان ہوئے ہیں کہ لوگ رشتے میں مال، حسب نسب اور حسن کو دیکھتے ہیں۔ مگر حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دین کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جائے۔ دیندار عورت سے نکاح کی حدیث آج بھی بہت زیادہ تلاش کی جاتی ہے، کیونکہ یہ نکاح کے فیصلے میں سوچ کا رخ درست کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کے لیے لوگ عموماً مال، خاندان، حسن اور دین کو دیکھتے ہیں۔
- حدیث میں دین کو ترجیح دینے کی واضح نصیحت ہے۔
- رشتہ دیکھتے وقت صرف ظاہری چیزوں پر رک جانا مناسب نہیں۔
- نکاح کے معاملے میں دینداری کو اہم معیار بنانا چاہیے۔
