صحیح بخاری حدیث ۵۱۳۹ - بیٹی کے ناپسند نکاح کا حکم

بیٹی کا ناپسند نکاح اور رضامندی کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۳۹

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ،أَخْبَرَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ حَدَّثَاهُ ، " أَنَّ رَجُلًا يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ " ، نَحْوَهُ .

عبدالرحمٰن بن یزید اور مجمع بن یزید روایت:

خذام نامی ایک صحابی نے اپنی لڑکی کا نکاح کر دیا تھا۔ پھر پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۳۹ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ خذام نامی ایک صحابی نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا تھا، پھر راوی نے اسی طرح کا واقعہ بیان کیا۔ چونکہ یہ روایت پچھلی حدیث کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، اس کا اصل موضوع بھی نکاح میں عورت کی رضا اور ناپسند نکاح کا مسئلہ ہے۔ حدیث کے متن میں تفصیل کم ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔ متعلقہ روایت کے مطابق خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کو یہ نکاح پسند نہ تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد فرمایا۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نکاح کے معاملے میں بیٹی کی پسند کو نظر انداز کرنا درست رویہ نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح میں بیٹی کی پسند کو اہم سمجھنا چاہیے۔
  • سرپرست کا فیصلہ عورت کی رضا کے خلاف نہیں ہونا چاہیے۔
  • ناپسند نکاح کا معاملہ دینی رہنمائی کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔
  • حدیث کو پچھلی روایت کے سیاق کے ساتھ سمجھا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں