صحیح بخاری حدیث ۵۱۳۷ - کنواری لڑکی کی خاموشی رضا ہے

کنواری لڑکی کی خاموشی کو رضا سمجھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۳۷

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي ، قَالَ : رِضَاهَا صَمْتُهَا " .

عائشہ روایت:

´ہم سے عمرو بن ربیع بن طارق نے بیان کیا، کہا کہ مجھے لیث بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے، انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمرو ذکوان نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ` انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری لڑکی (کہتے ہوئے) شرماتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا خاموش ہو جانا ہی اس کی رضا مندی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۳۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ کنواری لڑکی شرماتی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا خاموش رہنا ہی اس کی رضا ہے۔ یہ بات نکاح میں لڑکی کی اجازت کے موضوع سے جڑی ہوئی ہے۔ حدیث میں کنواری لڑکی کی فطری شرم کا لحاظ کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود اس کی رضا کو اہم رکھا گیا ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ اس سے پوچھا ہی نہ جائے، بلکہ دوسری روایت کے مطابق اجازت لینے کا حکم موجود ہے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ اگر پوچھنے پر وہ شرم کی وجہ سے کھل کر جواب نہ دے اور خاموش رہے، تو اس خاموشی کو رضا سمجھا جا سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح میں کنواری لڑکی کی رضا کا اعتبار ہے۔
  • کنواری لڑکی کی شرم کو سمجھتے ہوئے اس کی خاموشی کو رضا مانا جا سکتا ہے۔
  • لڑکی کے جذبات اور فطری حیا کا لحاظ کرنا چاہیے۔
  • نکاح کے معاملے میں اجازت کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں