صحیح بخاری حدیث ۵۱۵ - نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی
نماز کو کیا چیز توڑتی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت
صحیح بخاری : ۵۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۵
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَمَّهُ عَنِ الصَّلَاةِ يَقْطَعُهَا شَيْءٌ ، فَقَالَ : لَا يَقْطَعُهَا شَيْءٌ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ فَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِ أَهْلِهِ " .
´ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے اپنے چچا سے پوچھا کہ` کیا نماز کو کوئی چیز توڑ دیتی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں، اسے کوئی چیز نہیں توڑتی۔ کیونکہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور قبلہ کے درمیان عرض میں بستر پر لیٹی رہتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن شہاب کے چچا سے پوچھا گیا کہ کیا نماز کو کوئی چیز توڑ دیتی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اسے کوئی چیز نہیں توڑتی۔ پھر انہوں نے عروہ بن زبیر کے واسطے سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بیان کی کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم رات کو کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے، آپ صلى الله عليه وسلم اور قبلہ کے درمیان، گھر کے بستر پر آڑی لیٹی ہوتی تھیں۔ اس حدیث میں اصل بات عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے مشاہدے سے بیان ہوئی ہے۔ اس کا انداز بہت سادہ ہے: سوال ہوا، جواب دیا گیا، پھر دلیل کے طور پر نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل بیان کیا گیا۔ اس سے نماز کے متعلق جلد بازی سے حکم لگانے کے بجائے روایت کو دیکھنے کا طریقہ ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی سوال کا جواب روایت کی بنیاد پر دینا چاہیے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا کے مشاہدے سے نماز کے ایک مسئلے کی وضاحت ہوئی۔
- نماز کے بارے میں بات کرتے وقت احتیاط اور دلیل ضروری ہے۔
