صحیح بخاری حدیث ۵۱۱ - عورت کے سامنے ہونے سے نماز کا مسئلہ

کیا عورت کے سامنے ہونے سے نماز ٹوٹتی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۱

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ يَعْنِي ابْنَ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهَا مَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ ، فَقَالُوا : يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ ، قَالَتْ : قَدْ جَعَلْتُمُونَا كِلَابًا ، لَقَدْ " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ عَلَى السَّرِيرِ ، فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ فَأَكْرَهُ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا " ، وَعَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ .

عائشہ روایت:

ان کے سامنے ذکر ہوا کہ نماز کو کیا چیزیں توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کہا کہ کتا، گدھا اور عورت (بھی) نماز کو توڑ دیتی ہے۔ (جب سامنے آ جائے) عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم نے ہمیں کتوں کے برابر بنا دیا۔ حالانکہ میں جانتی ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کے درمیان (سامنے) چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ مجھے ضرورت پیش آتی تھی اور یہ بھی اچھا نہیں معلوم ہوتا تھا کہ خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دوں۔ اس لیے میں آہستہ سے نکل آتی تھی۔اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یہ بات ذکر ہوئی کہ نماز کو کتا، گدھا اور عورت توڑ دیتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات پر سخت ناپسندیدگی ظاہر کی اور فرمایا کہ تم نے ہمیں کتوں کے برابر بنا دیا۔ پھر انہوں نے اپنا مشاہدہ بیان کیا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوتی تھیں۔ جب انہیں ضرورت پیش آتی تو وہ یہ پسند نہ کرتیں کہ خود کو آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے کر دیں، اس لیے آہستہ سے نکل آتیں۔ اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر کے واقعے سے بات واضح کی۔ اصل سبق یہ ہے کہ دینی بات میں صحیح مشاہدہ اور روایت کی بنیاد پر بات کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی مسئلے میں صحابی کے مشاہدے کو اہمیت دی جاتی ہے۔
  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے ادب کا خیال رکھا۔
  • کسی بات کو عورتوں کے لیے توہین آمیز انداز میں بیان کرنے سے بچنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں