صحیح بخاری حدیث ۵۱۲ - وتر کے لیے گھر والوں کو جگانا

وتر کی نماز: نبی صلى الله عليه وسلم کا عائشہ رضی اللہ عنہا کو جگانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۲

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ عَلَى فِرَاشِهِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے رہتے اور میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے) بچھونے پڑ آڑی سوتی ہوئی پڑی ہوتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر پڑھنا چاہتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نماز پڑھتے رہتے اور وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے بچھونے پر آڑی سوئی ہوتی تھیں۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم وتر پڑھنا چاہتے تو انہیں جگا دیتے، پھر وہ بھی وتر پڑھ لیتیں۔ اس حدیث میں گھر کے ماحول میں عبادت کی سادگی نظر آتی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم رات کی نماز پڑھتے، اور وتر کے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی بیدار کر دیتے۔ یہاں اصل موضوع وتر کی نماز اور گھر والوں کو نرمی سے عبادت کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ حدیث میں یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے وقت عائشہ رضی اللہ عنہا بستر پر موجود تھیں، اور اس کے باوجود عبادت جاری رہی۔ بیان مختصر ہے، مگر اس میں گھر، نماز اور وتر کا خوبصورت عملی پہلو موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وتر کی نماز کا اہتمام نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
  • گھر والوں کو عبادت کے لیے نرمی سے جگانا اچھا عمل ہے۔
  • گھر کے عام حالات میں بھی نماز کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں