صحیح بخاری حدیث ۵۱۳ - سجدے کے وقت پاؤں سمیٹنا
سجدے کے وقت پاؤں سمیٹنا: نماز میں گھر کا سادہ واقعہ
صحیح بخاری : ۵۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۳
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَايَ فِي قِبْلَتِهِ ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ ، فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا ، قَالَتْ : وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ .
عائشہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سو جایا کرتی تھی۔ میرے پاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (پھیلے ہوئے) ہوتے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو پاؤں کو ہلکے سے دبا دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی پھر جب قیام فرماتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اس زمانہ میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ (معلوم ہوا کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے سو جایا کرتی تھیں اور ان کے پاؤں آپ صلى الله عليه وسلم کے قبلہ کی طرف ہوتے تھے۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم سجدہ کرتے تو آپ صلى الله عليه وسلم انہیں ہلکے سے دبا دیتے، وہ اپنے پاؤں سمیٹ لیتیں، پھر جب آپ صلى الله عليه وسلم قیام فرماتے تو وہ پاؤں پھیلا لیتیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بتایا کہ اس زمانے میں گھروں کے اندر چراغ نہیں ہوتے تھے۔ اس حدیث میں نماز کے دوران گھر کی تنگی یا سادگی کا پہلو معلوم ہوتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نماز ادا کرتے رہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا بہت آرام سے پاؤں سمیٹ لیتیں۔ اصل سبق نماز میں نرمی، گھر والوں کے ساتھ ادب اور عبادت کی پابندی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم گھر کے سادہ ماحول میں بھی نماز کا اہتمام کرتے تھے۔
- نماز کے دوران ضرورت ہو تو نرمی سے اشارہ کیا جا سکتا ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کا ادب کرتی تھیں۔
