صحیح بخاری حدیث ۵۱۹ - سجدے کے وقت پاؤں چھونا

سجدے کے وقت پاؤں سمیٹنا: عائشہ رضی اللہ عنہا کا مشاہدہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۹

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ رِجْلَيَّ فَقَبَضْتُهُمَا " .

عائشہ روایت:

تم نے برا کیا کہ ہم کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوئی تھی۔ جب سجدہ کرنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے اور میں انہیں سکیڑ لیتی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں پر ناپسندیدگی ظاہر کی جنہوں نے عورتوں کو کتوں اور گدھوں کے حکم میں کر دیا تھا۔ پھر انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے اور وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے، آپ صلى الله عليه وسلم اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتی تھیں۔ جب نبی صلى الله عليه وسلم سجدہ کرنا چاہتے تو ان کے پاؤں کو چھو دیتے، اور وہ اپنے پاؤں سمیٹ لیتیں۔ اس حدیث میں نماز کے دوران گھر کے اندر ایک عملی صورت بیان ہوئی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے مشاہدے کے ذریعے بات واضح کی، اور ساتھ ہی یہ بھی دکھایا کہ وہ نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتیں۔ اس میں ادب، نرمی اور روایت کی صاف گوئی موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہ رضی اللہ عنہا نے مسئلہ اپنے مشاہدے کی بنیاد پر واضح کیا۔
  • نماز کے دوران ضرورت ہو تو نرم اشارہ کافی ہو سکتا ہے۔
  • نماز پڑھنے والے کو سہولت دینا گھر والوں کے ادب میں شامل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں