صحیح بخاری حدیث ۵۱۸ - حائضہ کے قریب نماز کا بیان

حائضہ عورت کے قریب نماز: میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۸

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَيْمُونَةَ ، تَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ نَائِمَةٌ ، فَإِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي ثَوْبُهُ وَأَنَا حَائِضٌ " ، وَزَادَ مُسَدَّدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سليمان الشيبانِي وَأَنَا حَائِضٌ .

میمونہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر میں سوتی رہتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا مجھے چھو جاتا حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نماز پڑھتے ہوتے اور وہ آپ صلى الله عليه وسلم کے برابر میں سوئی رہتیں۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم سجدے میں جاتے تو آپ صلى الله عليه وسلم کا کپڑا انہیں چھو جاتا، حالانکہ وہ حائضہ ہوتی تھیں۔ یہ روایت صاف الفاظ میں ایک گھریلو واقعہ بیان کرتی ہے۔ اس میں حائضہ عورت کے قریب نماز پڑھنے، بستر کے پاس مصلے ہونے اور سجدے کے وقت کپڑا لگنے کا ذکر ہے۔ حدیث میں کوئی غیر ضروری تفصیل نہیں، اس لیے تشریح بھی اسی حد تک رہنی چاہیے۔ اصل سبق یہ ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر کے واقعات سے نماز کے آداب اور طہارت سے متعلق کچھ عملی صورتیں سمجھ آتی ہیں۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی حالت بھی بیان کی، تاکہ بات واضح رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی حالت صاف لفظوں میں بیان کی، یہ روایت کی امانت ہے۔
  • نماز کے وقت قریب سوئے ہوئے شخص کا ذکر اس حدیث میں موجود ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے گھریلو اعمال امت کے لیے دینی سمجھ کا ذریعہ بنے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں