صحیح بخاری حدیث ۵۱۷ - مصلے کے برابر بستر کا واقعہ
مصلے کے برابر بستر: نماز کے وقت قرب کا سادہ بیان
صحیح بخاری : ۵۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۷
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ ، قَالَ : أَخْبَرَتْنِي خَالَتِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : " كَانَ فِرَاشِي حِيَالَ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرُبَّمَا وَقَعَ ثَوْبُهُ عَلَيَّ وَأَنَا عَلَى فِرَاشِي " .
میمونہ بنت الحارث روایت:
میرا بستر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے کے برابر میں ہوتا تھا۔ اور بعض دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا (نماز پڑھتے میں) میرے اوپر آ جاتا اور میں اپنے بستر پر ہی ہوتی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کا بستر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے مصلے کے برابر ہوتا تھا۔ بعض دفعہ نماز کے دوران آپ صلى الله عليه وسلم کا کپڑا ان پر آ جاتا، جبکہ وہ اپنے بستر پر ہوتی تھیں۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس میں گھر کے اندر نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کا سادہ ماحول سامنے آتا ہے۔ مصلے کے قریب بستر تھا، جگہ قریب تھی، اور کبھی کپڑا بھی لگ جاتا تھا۔ حدیث کا اصل موضوع یہ ہے کہ نماز کے دوران قریب موجود شخص یا بستر کا ہونا اس روایت میں بیان ہوا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امہات المؤمنین نے گھر کے اندر کے واقعات پوری امانت سے بیان کیے، تاکہ امت نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو صحیح طور پر جان سکے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے اندر نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے واقعات امہات المؤمنین نے محفوظ کیے۔
- مصلے کے قریب بستر ہونے کا واقعہ اس حدیث میں صاف بیان ہوا ہے۔
- دینی روایت میں چھوٹے گھریلو مشاہدات بھی اہم ہو سکتے ہیں۔
