صحیح بخاری حدیث ۵۱۸۶ - عورتوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت

عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی حدیث اور نبوی وصیت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۸۶

وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّهُنَّ خُلِقْنَ مِنْ ضِلَعٍ ، وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ فِي الضِّلَعِ أَعْلَاهُ ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ ، وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا " .

‏‏‏‏ عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں بھی سب سے زیادہ ٹیڑھا اس کے اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی باقی رہ جائے گی اس لیے میں تمہیں عورتوں کے بارے میں اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کی جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کو خاص طور پر بیان فرمایا۔ پسلی کی مثال سے بات سمجھائی گئی کہ ہر طبیعت کو سختی سے بدلنے کی کوشش نقصان دے سکتی ہے۔ اس لیے میاں بیوی کے رشتے میں نرمی، برداشت اور اچھا برتاؤ ضروری ہے۔ یہ حدیث عورتوں کے حقوق، بیوی سے اچھا سلوک، اور ازدواجی زندگی میں تحمل کی واضح تعلیم دیتی ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ غلطی کو صحیح کہا جائے، بلکہ یہ ہے کہ گھر کے معاملے میں سخت مزاجی کے بجائے سمجھ داری اختیار کی جائے۔ اسی لیے آخر میں دوبارہ فرمایا گیا کہ عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عورتوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت نرمی اور بھلائی اختیار کی جائے۔
  • طبیعت کے فرق کو سختی سے بدلنے کی کوشش نقصان دے سکتی ہے۔
  • میاں بیوی کے رشتے میں برداشت اور اچھا برتاؤ بہت اہم ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے بارے میں خاص وصیت فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں