صحیح بخاری حدیث ۵۱۸۷ - بیویوں سے گفتگو میں احتیاط اور ادب

بیوی سے گفتگو میں ادب: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۸۷

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كُنَّا نَتَّقِي الْكَلَامَ وَالِانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَيْبَةَ أَنْ يَنْزِلَ فِينَا شَيْءٌ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمْنَا وَانْبَسَطْنَا " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہم اپنی بیویوں کے ساتھ گفتگو اور بہت زیادہ بےتکلفی سے اس ڈر کی وجہ سے پرہیز کرتے تھے کہ کہیں کوئی بےاعتدالی ہو جائے اور ہماری برائی میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی تو ہم نے ان سے خوب کھل کے گفتگو کی اور خوب بےتکلفی کرنے لگے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۸۷ کا خلاصہ

اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے زمانے کا ایک گھریلو انداز بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ اپنی بیویوں سے گفتگو اور بے تکلفی میں بہت احتیاط کرتے تھے، اس ڈر سے کہ کہیں کوئی بے اعتدالی نہ ہو جائے اور ان کے بارے میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ اس سے گھریلو گفتگو، میاں بیوی کے آداب، اور ذمہ دار رویے کی ایک جھلک ملتی ہے۔ حدیث یہ بھی بتاتی ہے کہ صحابہ وحی کے زمانے کو بہت سنجیدگی سے لیتے تھے۔ بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ اپنی بیویوں سے کھل کر بات کرنے لگے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ گھر کی بات چیت میں بھی ادب، احتیاط اور حدود کا خیال رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گھریلو گفتگو میں ادب اور احتیاط اچھی بات ہے۔
  • صحابہ کرام وحی کے زمانے کو بہت سنجیدگی سے لیتے تھے۔
  • میاں بیوی کی بے تکلفی میں بھی حد اور توازن ہونا چاہیے۔
  • بے اعتدالی کے اندیشے سے خود کو روکنا ایک ذمہ دار رویہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں