صحیح بخاری حدیث ۵۱۸۸ - ہر شخص اپنی رعیت کا ذمہ دار ہے
کلکم راع: گھر، مال اور اہل خانہ کی ذمہ داری
صحیح بخاری : ۵۱۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۸۸
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے (اس کی رعیت کے بارے میں) سوال ہو گا۔ پس امام حاکم ہے اس سے سوال ہو گا۔ مرد اپنی بیوی بچوں کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ عورت اپنے شوہر کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا۔ غلام اپنے سردار کے مال کا حاکم ہے اور اس سے سوال ہو گا ہاں پس تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۸۸ کا خلاصہ
یہ حدیث ذمہ داری کی حدیث کے طور پر بہت مشہور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے سوال ہو گا۔ اس میں امام، گھر کا مرد، گھر کی عورت، اور غلام یا خادم سب کا ذکر آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ذمہ داری صرف بڑے عہدے والے پر نہیں، ہر انسان اپنے دائرے میں جواب دہ ہے۔ مرد سے اس کے بیوی بچوں کے بارے میں سوال ہو گا، عورت سے شوہر کے گھر اور مال کے بارے میں سوال ہو گا، اور خادم سے اس مال کے بارے میں سوال ہو گا جو اس کے سپرد ہے۔ یہ حدیث گھر کی ذمہ داری، امانت داری، اور جواب دہی کو بہت سادہ انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر انسان اپنے دائرے میں ذمہ دار ہے۔
- گھر، مال اور اہل خانہ امانت ہیں۔
- ذمہ داری کا تعلق صرف حکومت یا بڑے منصب سے نہیں۔
- جو چیز کسی کے سپرد ہو، اس کے بارے میں سوال ہو گا۔
