صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۰ - اہل خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ

اہل خانہ کے ساتھ نرمی: عائشہ رضی اللہ عنہا کا کھیل دیکھنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۹۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ الْحَبَشُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ ، فَسَتَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَنْظُرُ ، فَمَا زِلْتُ أَنْظُرُ حَتَّى كُنْتُ أَنَا أَنْصَرِفُ فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ تَسْمَعُ اللَّهْوَ " .

عائشہ روایت:

کچھ فوجی کھیل کا نیزہ بازی سے مظاہرہ کر رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے جسم مبارک سے) میرے لیے پردہ کیا اور میں وہ کھیل دیکھتی رہی۔ میں نے اسے دیر تک دیکھا اور خود ہی اکتا کر لوٹ آئی۔ اب تم خود سمجھ لو کہ ایک کم عمر لڑکی کھیل کو کتنی دیر تک دیکھ سکتی ہے اور اس میں دلچسپی لے سکتی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں گھر کے اندر نرمی اور خیال رکھنے کی خوبصورت مثال ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حبشی لوگ نیزوں کے ساتھ کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے پردہ کیا اور وہ دیکھتی رہیں، یہاں تک کہ وہ خود واپس ہو گئیں۔ روایت میں یہ بات بھی آئی کہ کم عمر لڑکی کھیل کو کتنی دیر دلچسپی سے دیکھ سکتی ہے، اس کا اندازہ کیا جائے۔ اس حدیث سے اہل خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ، بیوی کی جائز دلچسپی کا خیال، اور گھر میں آسانی پیدا کرنے کا سبق ملتا ہے۔ یہ کوئی سخت یا خشک مزاجی والی بات نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نرم، باوقار اور خیال رکھنے والے رویے کی مثال ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اہل خانہ کی جائز دلچسپی کا خیال رکھنا اچھا برتاؤ ہے۔
  • بیوی کے لیے آسانی پیدا کرنا گھریلو حسن سلوک میں شامل ہے۔
  • نرمی اور وقار ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے مزاج اور عمر کا خیال رکھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں