صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۴ - بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارو
بیوی پر ظلم نہیں: مارنے سے منع کرنے والی حدیث
صحیح بخاری : ۵۲۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۰۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ " .
عبداللہ بن زمعہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے کہ پھر دوسرے دن اس سے ہمبستر ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت اور ذلت آمیز مار پیٹ سے منع فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص اپنی بیوی کو غلاموں کی طرح نہ مارے کہ پھر دن کے آخر میں اس سے ہمبستر ہو۔ یہ بات میاں بیوی کے رشتے کی عزت کو واضح کرتی ہے۔ شوہر کا رویہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دن میں بیوی کو ذلیل کرے اور پھر اسی سے قربت چاہے۔ حدیث کا اصل پیغام بیوی سے حسن سلوک، ظلم سے بچنا، اور گھریلو تعلق میں عزت قائم رکھنا ہے۔ اس روایت کو پڑھتے ہوئے بات کو اسی متن تک رکھا جائے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس انداز کی مار کو سخت ناپسند فرمایا اور گھر کے رشتے میں بے رحمی کے بجائے عزت کا راستہ دکھایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوی کے ساتھ ذلت آمیز مار پیٹ درست رویہ نہیں۔
- قربت کا رشتہ عزت اور نرمی چاہتا ہے۔
- گھر میں ظلم اور سختی سے بچنا چاہیے۔
- شوہر کو اپنے رویے کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
