صحیح بخاری حدیث ۴۹۴۲ - بیوی کو مارنے سے تنبیہ

بیوی کے حقوق کی حدیث: غلام کی طرح مارنے پر سخت تنبیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۴۲

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَذَكَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي عَقَرَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا سورة الشمس آية 12 " انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَزِيزٌ عَارِمٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ ، وَذَكَرَ النِّسَاءَ ، فَقَالَ : " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْلِدُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ، فَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ ، ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ ، وَقَالَ : لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ " ، وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ عَمِّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ " .

عبداللہ بن زمعہ روایت:

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس شخص کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا «إذ انبعث أشقاها‏» یعنی اس اونٹنی کو مار ڈالنے کے لیے ایک مفسد بدبخت (قدار نامی) کو اپنی قوم میں ابوزمعہ کی طرح غالب اور طاقتور تھا اٹھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے حقوق کا بھی ذکر فرمایا کہ تم میں بعض اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتے ہیں حالانکہ اسی دن کے ختم ہونے پر وہ اس سے ہمبستری بھی کرتے ہیں۔ پھر آپ نے انہیں ریاح خارج ہونے پر ہنسنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ ایک کام جو تم میں ہر شخص کرتا ہے اسی پر تم دوسروں پر کس طرح ہنستے ہو۔ابومعاویہ نے بیان کیا کہ ہم سے ہشام بن عروہ بن زبیر نے، ان سے عبداللہ بن زمعہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس حدیث میں) یوں فرمایا ابوزمعہ کی طرح جو زبیر بن عوام کا چچا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۴۲ کا خلاصہ

یہ حدیث بیوی کے حقوق اور اخلاق کے بارے میں اہم نصیحت بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں صالح علیہ السلام کی اونٹنی اور اسے مارنے والے شخص کا ذکر فرمایا۔ پھر عورتوں کے بارے میں تنبیہ فرمائی کہ تم میں بعض اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے مارتے ہیں، حالانکہ اسی دن کے آخر میں وہ اس سے قربت بھی کرتا ہے۔ اس جملے میں سخت انداز سے اس رویے کی خرابی بتائی گئی ہے کہ جس عورت کے ساتھ گھر کا قریبی تعلق ہے، اسے ذلت آمیز طریقے سے مارنا درست انداز نہیں۔ پھر آپ نے لوگوں کو ریح خارج ہونے پر ہنسنے سے بھی منع فرمایا اور فرمایا کہ ایک ایسا کام جو تم میں ہر شخص کرتا ہے، اس پر دوسروں پر کیوں ہنستے ہو۔ حدیث کا پیغام گھریلو سلوک، شرم و لحاظ، اور دوسروں کی بے عزتی سے بچنے کے بارے میں ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بیوی کو غلام کی طرح مارنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی۔
  • قریبی رشتے میں سختی اور ذلت آمیز سلوک مناسب نہیں۔
  • ایسی بات پر ہنسنے سے منع کیا گیا جو انسانوں سے خود بھی پیش آتی ہے۔
  • خطبہ میں قوم ثمود کے بدبخت شخص کا ذکر بھی نصیحت کے طور پر آیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں