صحیح بخاری حدیث ۴۹۴۱ - مدینہ میں قرآن کی تعلیم
مدینہ میں قرآن کی تعلیم: نبی صلى الله عليه وسلم کی آمد سے پہلے کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۹۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۴۱
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبي ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَجَعَلَا يُقْرِئَانِنَا الْقُرْآنَ ، ثُمَّ جَاءَ عَمَّارٌ وَبِلَالٌ وَسَعْدٌ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي عِشْرِينَ ، ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَا رَأَيْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ، فَرِحُوا بِشَيْءٍ فَرَحَهُمْ بِهِ حَتَّى رَأَيْتُ الْوَلَائِدَ وَالصِّبْيَانَ ، يَقُولُونَ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَ ، فَمَا جَاءَ حَتَّى قَرَأْتُ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 فِي سُوَرٍ مِثْلِهَا " .
براء بن عازب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (مہاجر) صحابہ میں سب سے پہلے ہمارے پاس مدینہ تشریف لانے والے مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما تھے۔ مدینہ پہنچ کر ان بزرگوں نے ہمیں قرآن مجید پڑھانا شروع کر دیا۔ پھر عمار، بلال اور سعد رضی اللہ عنہم آئے۔ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیس صحابہ کو ساتھ لے کر آئے اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے کبھی مدینہ والوں کو اتنا خوش ہونے والا نہیں دیکھا تھا، جتنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوش ہوئے تھے۔بچیاں اور بچے بھی کہنے لگے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے یہاں تشریف لائے ہیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ میں تشریف آوری سے پہلے ہی «سبح اسم ربك الأعلى» اور اس جیسی اور سورتیں پڑھ لی تھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۴۱ کا خلاصہ
یہ حدیث مدینہ میں قرآن کی تعلیم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی کو بیان کرتی ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سب سے پہلے مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما مدینہ آئے۔ انہوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر عمار، بلال اور سعد رضی اللہ عنہم آئے، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیس صحابہ کے ساتھ آئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مدینہ والوں کو اتنا خوش کبھی نہیں دیکھا جتنا آپ کی آمد پر دیکھا۔ بچے اور بچیاں بھی کہہ رہے تھے کہ اللہ کے رسول تشریف لے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ کے آنے سے پہلے وہ سبح اسم ربك الأعلى اور اس جیسی سورتیں پڑھ چکے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ میں قرآن کی تعلیم شروع ہو چکی تھی۔
- مصعب بن عمیر اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہما نے قرآن پڑھایا۔
- مدینہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر بہت خوشی ظاہر کی۔
- بچوں تک کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا شعور تھا۔
