صحیح بخاری حدیث ۴۹۴۰ - حال کے بعد حال

حال کے بعد حال: لتركبن طبقا عن طبق کی تفسیر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۴۰

حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ سورة الانشقاق آية 19 ، حَالًا بَعْدَ حَالٍ ، قَالَ : هَذَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

مجاہد روایت:

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لتركبن طبقا عن طبق» یعنی ”تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسرے حالت پر پہنچنا ہے۔“ بیان کیا کہ یہاں مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ آپ کو کامیابی رفتہ رفتہ حاصل ہو گی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۴۰ کا خلاصہ

یہ روایت آیت لتركبن طبقا عن طبق کی تفسیر کے بارے میں ہے۔ مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کا مطلب بتایا: تم ضرور ایک حال کے بعد دوسرے حال پر پہنچو گے۔ پھر انہوں نے کہا کہ یہاں مراد تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اردو سرچ کے لیے اس کا اصل لفظی موضوع حال کے بعد حال، تدریجی کامیابی، اور سورہ انشقاق کی تفسیر ہے۔ اس روایت میں کوئی لمبی تاریخی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے تشریح کو اسی تک رکھنا درست ہے۔ متن سے یہ سمجھ آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں حالات مرحلہ وار آگے بڑھنے کا ذکر ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بیان فرمایا، اور کامیابی کے رفتہ رفتہ حاصل ہونے کا مفہوم نقل ہوا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آیت کا مطلب ایک حال کے بعد دوسرے حال پر پہنچنا بیان ہوا۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بتایا۔
  • روایت میں کامیابی کے رفتہ رفتہ حاصل ہونے کا مفہوم آیا ہے۔
  • قرآن کی آیت کی تفسیر صحابی کے بیان سے سمجھائی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں