صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۶ - عائشہ رضی اللہ عنہا اور حبشیوں کا کھیل
پردے کے ساتھ جائز تماشا دیکھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۲۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۳۶
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، عَنْ عِيسَى ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَسْأَمُ ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ " .
عائشہ روایت:
میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے اپنی چادر سے پردہ کئے ہوئے ہیں۔ میں حبشہ کے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں (جنگی) کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے، آخر میں ہی اکتا گئی۔ اب تم سمجھ لو ایک کم عمر لڑکی جس کو کھیل تماشہ دیکھنے کا بڑا شوق ہے کتنی دیر تک دیکھتی رہی ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع پردہ، نرمی، اور گھر والوں کی جائز دلچسپی کا خیال رکھنا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر سے ان کے لیے پردہ کیا، اور وہ حبشہ کے لوگوں کو مسجد میں کھیل کا مظاہرہ کرتے دیکھ رہی تھیں۔ وہ اتنی دیر دیکھتی رہیں کہ آخر خود اکتا گئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بعد فرمایا کہ تم ایک کم عمر لڑکی کا اندازہ کر لو جسے کھیل تماشہ دیکھنے کا شوق ہو۔ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی، عائشہ رضی اللہ عنہا کے شوق کا خیال، اور پردے کے ساتھ دیکھنے کا انداز بیان ہوا ہے۔ یہ عائشہ رضی اللہ عنہا، حبشیوں کا کھیل، مسجد میں کھیل، اور پردہ کی حدیث کے طور پر معروف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے شوق کا خیال فرمایا۔
- پردے کے ساتھ دیکھنے کا اہتمام حدیث میں صاف بیان ہوا ہے۔
- گھر والوں کے جائز دل چسپ معاملات میں نرمی اختیار کی جا سکتی ہے۔
