صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۹ - رضاعی رشتوں کا حکم
رضاعت سے بھی محرم رشتے بنتے ہیں: آسان حدیث
صحیح بخاری : ۵۲۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۳۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ عَمُّكِ ، فَأْذَنِي لَهُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ ، قَالَتْ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ عَمُّكِ فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ عَلَيْنَا الْحِجَابُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ " .
عائشہ روایت:
میرے دودھ چچا (رضاعی چچا، افلح) آئے اور میرے پاس اندر آنے کی اجازت چاہی لیکن میں نے کہا کہ جب تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، اجازت نہیں دے سکتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں، انہیں اندر بلا لو۔میں نے اس پر کہا کہ یا رسول اللہ! عورت نے مجھے دودھ پلایا تھا کوئی مرد نے تھوڑا ہی پلایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہیں تو وہ تمہارے چچا ہی (رضاعی) اس لیے وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں، یہ واقعہ ہمارے لیے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ خون سے جو چیزیں حرام ہوتی ہیں رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتی ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع رضاعت یعنی دودھ کے رشتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ان کے رضاعی چچا آئے اور اندر آنے کی اجازت چاہی، مگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر اجازت نہ دی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں، انہیں اندر آنے کی اجازت دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ مجھے عورت نے دودھ پلایا تھا، مرد نے تو نہیں پلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے چچا ہیں، وہ تمہارے پاس آ سکتے ہیں۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ خون سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، رضاعت سے بھی وہ حرام ہو جاتے ہیں۔ یہ رضاعت، رضاعی چچا، اور محرم رشتوں کی حدیث ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رضاعت سے محرم رشتے قائم ہوتے ہیں۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دینے سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔
- حدیث کے مطابق نسب سے جو رشتے حرام ہوتے ہیں، رضاعت سے بھی وہی حرام ہوتے ہیں۔
