صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۰ - عورت کا حلیہ شوہر سے بیان نہ کرنا

دوسری عورت کا حلیہ شوہر کو بیان نہ کریں: پردہ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۴۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ نہ بیان کرے، گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع پردہ، عورت کی پرائیویسی، اور زبان کی احتیاط ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت سے ملنے کے بعد اپنے شوہر سے اس کا حلیہ اس طرح بیان نہ کرے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ حدیث کا پیغام بہت واضح ہے: کسی عورت کے جسمانی اوصاف یا حلیے کو اس انداز میں بیان نہ کیا جائے جس سے سننے والے کے ذہن میں مکمل تصویر بن جائے۔ یہ صرف پردے کا معاملہ نہیں بلکہ امانت اور حیا کا معاملہ بھی ہے۔ عورتوں کے درمیان جو بات یا جو صورت دیکھی گئی، اسے شوہر کے سامنے اس انداز میں بیان کرنا منع کیا گیا ہے۔ یہ عورت کا حلیہ بیان کرنا، شوہر سے دوسری عورت کا ذکر، اور پردہ کی حدیث کے طور پر بہت تلاش کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی عورت کا حلیہ اپنے شوہر کے سامنے تصویر کی طرح بیان نہ کیا جائے۔
  • دوسروں کی ذاتی باتوں اور جسمانی اوصاف کی حفاظت کرنی چاہیے۔
  • زبان کی احتیاط بھی حیا اور پردے کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں