صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۱ - عورت کی پرائیویسی اور حلیہ بیان کرنے سے منع
عورت کی پرائیویسی کا خیال: حلیہ بیان کرنے سے منع کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۲۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۴۱
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَاشِرِ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فَتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت سے مل کر اپنے شوہر سے اس کے حلیہ نہ بیان کرے گویا کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۱ کا خلاصہ
یہ حدیث عورت کی پرائیویسی اور حیا کے بارے میں بہت واضح ہدایت دیتی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت کسی عورت سے مل کر اپنے شوہر سے اس کا حلیہ اس طرح بیان نہ کرے گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ حدیث میں بات صرف عام تعریف کی نہیں، بلکہ ایسے بیان کی ہے جو شوہر کے سامنے دوسری عورت کی صورت یا جسمانی کیفیت کو جیسے دکھا دے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کے آپس کے میل جول میں بھی امانت داری چاہیے۔ جو چیز شوہر کے سامنے بیان کرنے سے دل میں غلط خیال آ سکتا ہو، اس سے بچنا چاہیے۔ یہ عورت کی پرائیویسی، حلیہ بیان نہ کرنے، اور حیا کی حدیث ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسری عورت کے حلیے کو شوہر کے سامنے تفصیل سے بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
- آپس کی ملاقات میں دیکھی ہوئی بات کو امانت سمجھنا چاہیے۔
- حیا صرف لباس نہیں، بات کرنے کے انداز میں بھی ہوتی ہے۔
