صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۶ - چال ڈھال میں دینی حد
مرد و عورت کی مشابہت سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۸۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۸۶
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَعَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ ، وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ " قَالَ : فَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا ، وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پر اور مردوں کی چال چلن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی اور فرمایا کہ ان زنانہ بننے والے مردوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع چال ڈھال میں دینی حد ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی جو عورتوں جیسا انداز اختیار کرتے ہیں، اور ان عورتوں پر بھی جو مردوں جیسی چال چلن اختیار کرتی ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو گھروں سے باہر نکال دو۔ یہاں بات کسی عام کمزوری یا معمولی عادت کی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر دوسری جنس کی چال ڈھال اختیار کرنے کی ہے۔ اس لیے یہ حدیث لباس، انداز، عادت اور گھر کے ماحول میں شرعی احتیاط کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ عام فہم الفاظ میں سبق یہ ہے کہ مسلمان کو اپنی پہچان، وقار اور گھر کی پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مردوں اور عورتوں کو جان بوجھ کر ایک دوسرے کی چال ڈھال اختیار کرنے سے بچنا چاہیے۔
- گھر کے ماحول کو دینی حدود کے مطابق محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں سخت الفاظ استعمال فرمائے، اس لیے اسے معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔
