صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۵ - مرد و عورت کی مشابہت پر وعید
مرد و عورت کی مشابہت کی حدیث: چال چلن میں حدود کا خیال
صحیح بخاری : ۵۸۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۸۸۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ " ، تَابَعَهُ عَمْرٌو ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ .
ابن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔ غندر کے ساتھ اس حدیث کو عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۸۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں، اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔ روایت کے الفاظ مختصر ہیں، مگر بات صاف ہے کہ جان بوجھ کر ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنا سخت ناپسندیدہ عمل بتایا گیا ہے۔ اس حدیث کا موضوع مرد و عورت کی مشابہت، چال چلن، اور لباس و انداز میں حد کا خیال ہے۔ وضاحت میں احتیاط ضروری ہے، کیونکہ متن میں مخصوص مثالیں تفصیل سے نہیں آئیں۔ اس لیے صرف اتنا کہنا درست ہے کہ مردوں کو عورتوں جیسا اور عورتوں کو مردوں جیسا انداز اختیار کرنے سے بچنا چاہیے، جیسا کہ حدیث کے الفاظ میں آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مردوں کا عورتوں جیسا چال چلن اختیار کرنا سخت ناپسندیدہ بتایا گیا۔
- عورتوں کا مردوں جیسا چال چلن اختیار کرنا بھی سخت ناپسندیدہ بتایا گیا۔
- حدیث میں دونوں طرف کی مشابہت کا الگ الگ ذکر ہے۔
- وضاحت کرتے وقت متن میں آئی ہوئی بات ہی بیان کرنی چاہیے۔
