صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۳ - سفر سے رات کو اچانک گھر آنے کی ممانعت
سفر سے رات کو اچانک گھر نہ آنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۲۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۴۳
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا " .
جابر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص سے رات کے وقت اپنے گھر (سفر سے اچانک) آنے پر ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سفر سے واپسی کے آداب ہیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کوئی شخص رات کے وقت اچانک اپنے گھر آئے۔ حدیث مختصر ہے، مگر اس میں گھر والوں کے احساسات اور گھریلو سکون کا خیال موجود ہے۔ سفر سے واپس آنے والا شخص اگر اچانک رات میں پہنچے تو گھر والے تیار نہ ہوں یا انہیں پریشانی ہو سکتی ہے۔ حدیث کے الفاظ میں صرف ناپسندیدگی بیان ہوئی ہے کہ آدمی رات کو اپنے اہل کے پاس اچانک نہ آئے۔ یہ سفر سے واپسی، رات کو گھر آنا، اور گھر والوں کا خیال رکھنے کی حدیث کے طور پر مشہور ہے۔ اس میں شک یا بدگمانی پیدا کرنے والے انداز سے بچنے کا پہلو بھی سمجھ آتا ہے، مگر بات حدیث کے دائرے میں رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر سے واپسی پر رات کو اچانک گھر آنے کو ناپسند فرمایا گیا۔
- گھر والوں کے آرام اور تیاری کا خیال رکھنا چاہیے۔
- گھریلو زندگی میں اچانک پریشانی پیدا کرنے والے انداز سے بچنا بہتر ہے۔
