صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۴ - لمبے سفر کے بعد رات کو گھر نہ آنا

لمبی غیر حاضری کے بعد رات کو گھر نہ آنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۴۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَطَالَ أَحَدُكُمُ الْغَيْبَةَ فَلَا يَطْرُقْ أَهْلَهُ لَيْلًا " .

جابر بن عبداللہ انصاری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص زیادہ دنوں تک اپنے گھر سے دور ہو تو یکایک رات کو اپنے گھر میں نہ آ جائے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۴۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع لمبے سفر یا لمبی غیر حاضری کے بعد گھر واپسی کے آداب ہیں۔ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی زیادہ دنوں تک گھر سے دور رہے تو یکایک رات کو اپنے گھر نہ آئے۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ حدیث میں لمبی غیر حاضری کا ذکر ہے۔ اس لیے گھر والوں کو اچانک رات میں پریشان کرنے کے بجائے ایسا وقت اختیار کرنا چاہیے جس میں گھر والے باخبر اور تیار ہوں۔ حدیث کا پیغام نرم مگر واضح ہے: گھر واپسی میں بھی ادب ہے۔ آدمی صرف اپنی جلدی نہ دیکھے، بلکہ گھر والوں کی حالت اور سکون کا بھی خیال کرے۔ یہ لمبے سفر سے واپسی، رات کو گھر آنا، اور اہل خانہ کے حقوق کی حدیث ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لمبی غیر حاضری کے بعد رات کو اچانک گھر آنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • گھر والوں کو تیاری اور اطمینان کا موقع دینا اچھا ہے۔
  • سفر سے واپسی میں بھی گھر کے آداب کا خیال رکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں