صحیح بخاری حدیث ۵۲۵۴ - پناہ مانگنے پر نرمی

نکاح میں نرمی: اللہ کی پناہ مانگنے والی عورت کا واقعہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۵۴

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ : أَيُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ ؟ قَالَ :أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا أُدْخِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَنَا مِنْهَا ، قَالَتْ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، فَقَالَ لَهَا : لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ " . قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ، رَوَاهُ حَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ .

زہری روایت:

´ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کن بیوی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جون کی بیٹی (امیمہ یا اسماء) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں (نکاح کے بعد) لائی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو اس نے یہ کہہ دیا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے بہت بڑی چیز سے پناہ مانگی ہے، اپنے میکے چلی جاؤ۔ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حجاج بن یوسف بن ابی منیع سے، اس نے بھی اپنے دادا ابومنیع (عبیداللہ بن ابی زیاد) سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۵۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع نکاح میں نرمی اور اللہ کی پناہ کا احترام ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جون کی بیٹی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب تشریف لے گئے تو اس نے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے بہت بڑی چیز سے پناہ مانگی ہے، اپنے میکے چلی جاؤ۔ اس واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نرم انداز صاف نظر آتا ہے۔ متن میں یہی بیان ہے کہ عورت کو واپس بھیج دیا گیا، اس لیے اس سے آگے کوئی اضافی بات شامل نہیں کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی پناہ مانگنے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنجیدگی سے لیا۔
  • نکاح کے معاملے میں نرمی اور عزت کا انداز اختیار کیا گیا۔
  • ناپسندیدگی ظاہر ہونے پر زبردستی کا ذکر اس متن میں نہیں ملتا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں