صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۶ - نکاح میں عورت کی اجازت

نکاح میں عورت کی اجازت: کنواری کی خاموشی کا مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۴۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو هُوَ ذَكْوَانُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، يُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : فَإِنَّ الْبِكْرَ تُسْتَأْمَرُ ، فَتَسْتَحْيِي ، فَتَسْكُتُ ، قَالَ : سُكَاتُهَا إِذْنُهَا " .

عائشہ روایت:

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے سلسلہ میں اجازت لی جائے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں۔ میں نے عرض کیا لیکن کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی تو وہ شرم کی وجہ سے چپ سادھ لے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۹۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نکاح میں عورت کی اجازت ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا عورتوں سے ان کے نکاح کے بارے میں اجازت لی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر انہوں نے کنواری لڑکی کا حال بیان کیا کہ وہ شرم کی وجہ سے خاموش رہتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اس کی خاموشی ہی اجازت ہے۔ اس سے صاف سمجھ آتا ہے کہ نکاح کوئی ایسا معاملہ نہیں جس میں عورت کی رائے کو نظر انداز کیا جائے۔ نکاح کی اجازت، لڑکی کی مرضی، کنواری کی خاموشی اور عورت کا حق نکاح اس حدیث کے اہم پہلو ہیں۔ متن میں زور اسی بات پر ہے کہ اجازت لی جائے، چاہے اجازت کا اظہار خاموشی سے ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح کے معاملے میں عورت سے اجازت لینا ضروری ہے۔
  • کنواری لڑکی شرم کی وجہ سے خاموش رہے تو متن کے مطابق یہ اجازت شمار ہو سکتی ہے۔
  • نکاح میں عورت کی رائے کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں