صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۰ - بیوہ اور کنواری کی رضا کے بغیر نکاح نہیں
بیوہ کی اجازت کی حدیث: نکاح میں رضا کا واضح اصول
صحیح بخاری : ۶۹۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۷۰
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ ، قَالُوا : كَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ : أَنْ تَسْكُتَ " ، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ : إِنِ احْتَالَ إِنْسَانٌ بِشَاهِدَيْ زُورٍ عَلَى تَزْوِيجِ امْرَأَةٍ ثَيِّبٍ بِأَمْرِهَا ، فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا إِيَّاهُ وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَمْ يَتَزَوَّجْهَا قَطُّ ، فَإِنَّهُ يَسَعُهُ هَذَا النِّكَاحُ ، وَلَا بَأْسَ بِالْمُقَامِ لَهُ مَعَهَا .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی بیوہ سے اس وقت تک شادی نہ کی جائے جب تک اس کا حکم نہ معلوم کر لیا جائے اور کسی کنواری سے اس وقت تک نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے۔“ صحابہ نے پوچھا: اس کی اجازت کا کیا طریقہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ کہ وہ خاموش ہو جائے۔“پھر بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہا اگر کسی شخص نے دو جھوٹے گواہوں کے ذریعہ حیلہ کیا (اور یہ جھوٹ گھڑا) کہ کسی بیوہ عورت سے اس نے اس کی اجازت سے نکاح کیا ہے اور قاضی نے بھی اس مرد سے اس کے نکاح کا فیصلہ کر دیا جبکہ اس مرد کو خوب خبر ہے کہ اس نے اس عورت سے نکاح نہیں کیا ہے تو یہ نکاح جائز ہے اور اس کے لیے اس عورت کے ساتھ رہنا جائز ہو جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ بیوہ سے اس وقت تک شادی نہ کی جائے جب تک اس کا حکم معلوم نہ کر لیا جائے، اور کنواری سے نکاح نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے۔ صحابہ نے پوچھا کہ کنواری کی اجازت کا طریقہ کیا ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ خاموش ہو جائے۔ اس سے نکاح میں رضا کا اصول واضح ہوتا ہے۔ متن میں آگے جھوٹے گواہوں کے ذریعے حیلہ کرنے کا ذکر ہے؛ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ محض کاغذی یا عدالتی صورت بنا لینا، جبکہ حقیقت میں فریب ہو، ایک خطرناک معاملہ ہے۔ بیوہ کی اجازت کی حدیث خاص طور پر بتاتی ہے کہ پہلے سے شادی شدہ عورت کے حکم اور رائے کو واضح طور پر جاننا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوہ کے نکاح میں اس کا حکم معلوم کرنا ضروری ہے۔
- کنواری کی اجازت اس کی خاموشی سے بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔
- نکاح میں جھوٹی گواہی اور حیلہ حق کو بدل نہیں دیتے۔
