صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۹ - ناپسند نکاح کو رد کیا گیا
زبردستی نکاح کی حدیث: عورت کی ناپسندیدگی کو نظر انداز نہ کریں
صحیح بخاری : ۶۹۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۶۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، " أَنَّ امْرَأَةً مِنْ وَلَدِ جَعْفَرٍ تَخَوَّفَتْ أَنْ يُزَوِّجَهَا وَلِيُّهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى شَيْخَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ جَارِيَةَ ، قَالَا : فَلَا تَخْشَيْنَ ، فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ " ، قَالَ سُفْيَانُ : وَأَمَّا عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : عَنْ أَبِيهِ ، إِنَّ خَنْسَاءَ .
قاسم روایت:
جعفر رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ایک خاتون کو اس کا خطرہ ہوا کہ ان کا ولی (جن کی وہ زیر پرورش تھیں) ان کا نکاح کر دے گا۔ حالانکہ وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے قبیلہ انصار کے دو شیوخ عبدالرحمٰن اور مجمع کو جو جاریہ کے بیٹے تھے کہلا بھیجا انہوں نے تسلی دی کہ کوئی خوف نہ کریں۔ کیونکہ خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کا نکاح ان کے والد نے ان کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو رد کر دیا تھا۔سفیان نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن کو اپنے والد سے یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ خنساء رضی اللہ عنہا آخر حدیث تک بیان کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۶۹ کا خلاصہ
اس روایت میں ایک خاتون کو یہ خوف ہوا کہ ان کا ولی ان کی ناپسندیدگی کے باوجود ان کا نکاح کر دے گا۔ انہوں نے انصار کے دو بزرگوں سے بات کہلوائی۔ انہوں نے انہیں تسلی دی اور خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا کا واقعہ یاد دلایا کہ ان کے والد نے ان کا نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دیا تھا، تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس نکاح کو رد کر دیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع زبردستی نکاح اور عورت کی رضا ہے۔ یہاں کسی لمبی بحث کے بجائے ایک واضح عملی بات سامنے آتی ہے: نکاح میں لڑکی یا عورت کی ناپسندیدگی کو معمولی نہیں سمجھا گیا۔ اس لیے گھر والوں کو نکاح کے فیصلے میں رضا، امانت اور انصاف کا خیال رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نکاح کے معاملے میں عورت کی ناپسندیدگی کو اہم سمجھا گیا ہے۔
- ولی کو نکاح میں ذمہ داری اور انصاف کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔
- زبردستی نکاح کا معاملہ دین میں سنجیدہ ہے، اسے معمولی رسم نہ سمجھا جائے۔
