صحیح بخاری حدیث ۵۲۶۴ - تین طلاق کے بعد حکم
تین طلاق کے بعد عورت کب حلال ہوتی ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا جواب
صحیح بخاری : ۵۲۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۶۴
وَقَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : " كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا ، قَالَ : لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا ، فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا ، حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ " .
نافع روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر ایسے شخص کا مسئلہ پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہوتی، تو وہ کہتے اگر تو ایک بار یا دو بار طلاق دیتا تو رجوع کر سکتا تھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایسا ہی حکم دیا تھا لیکن جب تو نے تین طلاق دے دی تو وہ عورت اب تجھ پر حرام ہو گئی یہاں تک کہ وہ تیرے سوا اور کسی شخص سے نکاح کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۶۴ کا خلاصہ
اس روایت میں نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے جب ایسے شخص کا مسئلہ پوچھا جاتا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہو، تو وہ کہتے کہ اگر ایک یا دو طلاق دیتا تو رجوع کر سکتا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسی کا حکم دیا تھا۔ لیکن جب تین طلاق دے دی تو عورت اس پر حرام ہو گئی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے۔ یہ تین طلاق کی حدیث بہت سنجیدہ مسئلہ بیان کرتی ہے۔ اس میں ایک یا دو طلاق اور تین طلاق کے نتیجے میں فرق صاف طور پر سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک یا دو طلاق کی صورت میں رجوع کا راستہ موجود ہو سکتا ہے۔
- تین طلاق کے بعد پہلے شوہر کے لیے عورت حلال نہیں رہتی۔
- طلاق کے عدد میں جلد بازی بڑے نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
