صحیح بخاری حدیث ۵۲۶۳ - اختیار دینا طلاق نہیں

اختیار کا مسئلہ: بیوی شوہر کو چن لے تو طلاق نہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۶۳

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ ؟ فَقَالَتْ : " خَيَّرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَفَكَانَ طَلَاقًا ؟ " قَالَ مَسْرُوقٌ : لَا أُبَالِي أَخَيَّرْتُهَا وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي .

مسروق روایت:

میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ”اختیار“ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا محض یہ اختیار طلاق بن جاتا۔ مسروق نے کہا کہ اختیار دینے کے بعد اگر تم مجھے پسند کر لیتی ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، چاہے میں ایک مرتبہ اختیار دوں یا سو مرتبہ (طلاق نہیں ہو گی)۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں مسروق رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اختیار کے بارے میں پوچھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا، تو کیا یہ اختیار طلاق بن جاتا؟ مسروق نے اس پر کہا کہ اگر بیوی شوہر کو پسند کر لے تو اختیار دینے کی تعداد سے فرق نہیں پڑتا، چاہے ایک مرتبہ ہو یا سو مرتبہ۔ اس حدیث کا موضوع اختیار اور طلاق ہے۔ یہ بات سادہ انداز میں سمجھ آتی ہے کہ اختیار دینے کے بعد اگر بیوی شوہر کو چن لے تو محض یہ عمل طلاق نہیں کہلاتا۔ مگر دوسرے حالات کے لیے اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق اختیار دینا خود طلاق نہیں بنا۔
  • اگر بیوی شوہر کو چن لے تو اس روایت میں طلاق کا حکم نہیں لگایا گیا۔
  • طلاق کے مسائل میں صرف اندازے سے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں