صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۸ - جماعت کا اجر ستائیس گنا

جماعت کے ساتھ نماز: ستائیس گنا زیادہ اجر

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۷۸

وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ ، تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ " .

ابن عمر روایت:

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی نماز جماعت کے ساتھ اکیلے کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ ہے اجر میں۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۸ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آدمی کی نماز جماعت کے ساتھ اس کی اکیلی نماز سے ستائیس گنا زیادہ ہے۔ یہاں لفظ آدمی کی نماز جماعت کے ساتھ آیا ہے، جس سے روزمرہ نماز کا عملی پہلو واضح ہوتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص جماعت میں شامل ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اسے اکیلے نماز کے مقابلے میں زیادہ اجر ملتا ہے۔ متن میں ستائیس کا عدد آیا ہے، اس لیے اسی کو اصل پیغام سمجھنا چاہیے۔ یہ روایت نماز جماعت کا اجر، ستائیس گنا ثواب، اور اکیلے نماز کے مقابلے میں جماعت کی فضیلت کو عام فہم انداز میں بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جماعت کے ساتھ نماز کا اجر اکیلی نماز سے زیادہ بیان ہوا ہے۔
  • حدیث میں ستائیس گنا زیادتی کا لفظ آیا ہے۔
  • نماز جماعت کو روزمرہ عبادت میں ترجیح دینی چاہیے۔
  • روایت اکیلے اور جماعت کے فرق کو صاف انداز میں بتاتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں