صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۹ - بیس سے زائد یا ستائیس درجے
نماز جماعت کی فضیلت: روایت کے الفاظ میں فرق
صحیح مسلم : ۱۴۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۷۹
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح ، قَالَ : وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ : بِضْعًا وَعِشْرِينَ ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ : سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً .
ابن نمیر نے اپنے باپ سے اسی روایت میں بیس پر کئی درجے روایت کی۔ اور ابوبکر نے اپنی روایت میں ستائیس درجے روایت کی۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں اصل روایت نماز جماعت کی فضیلت ہی سے متعلق ہے، مگر یہاں راویوں کے الفاظ کا فرق بیان کیا گیا ہے۔ ابن نمیر نے اپنے والد سے اسی روایت میں بیس پر کئی درجے نقل کیے، جبکہ ابوبکر نے اپنی روایت میں ستائیس درجے کے الفاظ بیان کیے۔ اس سے ہمیں روایت کے نقل کرنے کا ایک علمی انداز سمجھ آتا ہے کہ محدثین الفاظ کے فرق کو بھی محفوظ کرتے تھے۔ متن کا بنیادی سبق یہی ہے کہ جماعت کی نماز اکیلی نماز سے افضل ہے، مگر اس خاص روایت میں عدد کے بیان کے دو انداز نقل ہوئے ہیں۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے نماز جماعت کی فضیلت کے ساتھ روایت کی امانت بھی سمجھ آتی ہے۔ یہ مضمون نماز جماعت، ستائیس درجے، اور حدیث کے الفاظ کے فرق کے لیے مفید ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راویوں نے الفاظ کے فرق کو بھی امانت کے ساتھ نقل کیا۔
- بنیادی مضمون نماز جماعت کی فضیلت ہے۔
- بیس سے زائد درجے اور ستائیس درجے دونوں الفاظ روایت میں آئے۔
- حدیث پڑھتے وقت متن کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے۔
