صحیح بخاری حدیث ۵۲۶۲ - بیویوں کو اختیار دینا
اختیار دینے کی حدیث: کیا یہ طلاق شمار ہوئی؟
صحیح بخاری : ۵۲۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۶۲
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَرْنَا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَلَمْ يَعُدَّ ذَلِكَ عَلَيْنَا شَيْئًا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا اور ہم نے اللہ اور اس کے رسول کو ہی پسند کیا تھا لیکن اس کا ہمارے حق میں کوئی شمار (طلاق) میں نہیں ہوا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع بیوی کو اختیار دینا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اختیار دیا، یعنی رہنے یا الگ ہونے کا موقع دیا۔ ازواج مطہرات نے اللہ اور اس کے رسول کو پسند کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ بات ان کے حق میں کوئی طلاق شمار نہیں ہوئی۔ یہ اختیار دینے کی حدیث بہت واضح ہے کہ جب بیوی شوہر کو چن لے تو محض اختیار دینا طلاق نہیں بنا۔ متن میں صرف یہی بات بیان ہوئی ہے، اس لیے اسے عام غصے یا دوسری صورتوں پر خود سے پھیلانا درست نہیں۔ طلاق کے الفاظ، نیت اور صورت کو سمجھنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- محض اختیار دینا اس روایت میں طلاق شمار نہیں ہوا۔
- ازواج مطہرات نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند کیا۔
- طلاق کے مسائل میں الفاظ اور صورت حال کو سمجھنا ضروری ہے۔
