صحیح بخاری حدیث ۵۲۶۱ - تین طلاق اور دوسرے نکاح کی شرط

تین طلاق کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۶۱

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ ، فَطَلَّقَ ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ ؟ قَالَ : لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ " .

عائشہ روایت:

ایک صاحب نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی تھی۔ ان کی بیوی نے دوسری شادی کر لی، پھر دوسرے شوہر نے بھی (ہمبستری سے پہلے) انہیں طلاق دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کیا پہلا شوہر اب ان کے لیے حلال ہے (کہ ان سے دوبارہ شادی کر لیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، یہاں تک کہ وہ یعنی شوہر ثانی اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے مزہ چکھا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی۔ اس عورت نے دوسرے مرد سے شادی کی، پھر دوسرے شوہر نے بھی ہمبستری سے پہلے طلاق دے دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا اب وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، یہاں تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا تھا۔ یہ تین طلاق کی حدیث بتاتی ہے کہ صرف رسمی نکاح یا ہمبستری سے پہلے طلاق کافی نہیں۔ متن میں مسئلہ بہت صاف اور مختصر انداز میں بیان ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تین طلاق کے بعد پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کی شرط سخت ہے۔
  • دوسرے نکاح کے بعد ازدواجی تعلق کے بغیر پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوتا۔
  • طلاق کے فیصلے میں جلد بازی بعد میں مشکل مسئلہ بنا سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں