صحیح بخاری حدیث ۵۲۸۳ - مغیث کی محبت اور بریرہ کا اختیار
بریرہ اور مغیث کی حدیث: حکم اور سفارش میں فرق
صحیح بخاری : ۵۲۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۸۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ : مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعبَّاسٍ : يَا عَبَّاسُ ، أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ رَاجَعْتِهِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ، قَالَتْ : لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ " .
ابن عباس روایت:
بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی؟آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کاش! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۸۳ کا خلاصہ
یہ روایت بریرہ رضی اللہ عنہا اور مغیث کے واقعہ کی نہایت اہم تفصیل بیان کرتی ہے۔ مغیث بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے روتے ہوئے پھرتے تھے اور آنسو ان کی داڑھی پر بہتے تھے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوتی؟ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کاش تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں۔ اس حدیث کا بڑا صاف سبق یہ ہے کہ حکم اور سفارش میں فرق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا کہ یہ حکم نہیں بلکہ سفارش ہے۔
- بریرہ رضی اللہ عنہا نے حکم اور مشورے کا فرق سمجھنے کے لیے سوال کیا۔
- مغیث کی محبت کے باوجود بریرہ رضی اللہ عنہا کا اختیار برقرار رہا۔
