صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۷ - رات آتے ہی روزہ افطار

افطار کا وقت: جب رات مشرق سے آ جائے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۹۷

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ : " كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ لِرَجُلٍ : انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْسَيْتَ ، ثُمَّ قَالَ : انْزِلْ فَاجْدَحْ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَمْسَيْتَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا ، ثُمَّ قَالَ : انْزِلْ فَاجْدَحْ ، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فِي الثَّالِثَةِ ، فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَشْرِقِ ، فَقَالَ : إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ " .

عبداللہ بن ابی اوفی روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے، ابھی دن باقی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اترو اور ستو گھول لو۔ آخر تیسری مرتبہ کہنے پر انہوں نے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۹۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع افطار کا وقت ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ سورج ڈوب گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ ستو گھول دو۔ انہوں نے سمجھا کہ ابھی دن کا اثر باقی ہے، اس لیے عرض کیا کہ کچھ اندھیرا ہو لینے دیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے دوبارہ، پھر تیسری بار یہی فرمایا۔ جب ستو گھولا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پیا، پھر مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ جب تم دیکھو رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار افطار کر لے۔ اس سے افطار میں غروب آفتاب کے بعد تاخیر نہ کرنے کا نکتہ ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سورج ڈوبنے کے بعد افطار کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
  • دن کی روشنی کا کچھ اثر باقی ہو تو بھی اصل علامت غروب اور رات کا آنا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے عملی طور پر افطار کیا اور پھر وضاحت فرمائی۔
  • حدیث سفر کے واقعے میں افطار کے وقت کو سمجھاتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں