صحیح بخاری حدیث ۵۳۴۶ - کتے کی قیمت اور ناجائز کمائی سے ممانعت
حرام کمائی کی حدیث: کتے کی قیمت، کاہن کی اجرت اور زنا کی آمدن
صحیح بخاری : ۵۳۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۴۶
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ " .
ابومسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، کاہن کی کمائی اور زانیہ عورت کے زنا کی کمائی کھانے سے منع فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حرام کمائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طرح کی آمدن کھانے سے منع فرمایا: کتے کی قیمت، کاہن کی کمائی، اور زانیہ عورت کی زنا والی کمائی۔ بات بہت سیدھی ہے کہ مسلمان کے لیے صرف پیسہ کمانا مقصد نہیں، بلکہ کمائی کا طریقہ بھی پاک ہونا چاہیے۔ حلال روزی کی حدیث تلاش کرنے والے لوگ عموماً یہی جاننا چاہتے ہیں کہ کون سی آمدن دین میں پسندیدہ نہیں۔ اس روایت میں ناجائز کمائی کی واضح صورتیں بیان ہوئیں، اس لیے ہمیں کاروبار، اجرت اور ذاتی فائدے میں یہ دیکھنا چاہیے کہ ذریعہ شرعاً درست ہے یا نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کمائی کے جائز یا ناجائز ہونے پر دھیان دینا ضروری ہے۔
- کتے کی قیمت، کاہن کی اجرت اور زنا کی کمائی سے منع کیا گیا ہے۔
- مسلمان کو ایسی آمدن سے بچنا چاہیے جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا ہے۔
