صحیح بخاری حدیث ۵۳۴۵ - والد کی وفات پر سوگ کی حد
والد کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ نہیں
صحیح بخاری : ۵۳۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۳۴۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، لَمَّا جَاءَهَا نَعِيُّ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا ، وَقَالَتْ : مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
ام حبیبہ بنت ابی سفیان روایت:
´ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم نے بیان کیا، ان سے حمید بن نافع نے بیان، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے دونوں بازؤں پر لگائی پھر کہا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوا شوہر کے کہ اس کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۳۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا کا عمل بیان ہوا ہے۔ جب ان کے والد کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے خوشبو منگوائی اور اپنے بازوؤں پر لگائی، پھر فرمایا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو عورت اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو، وہ کسی میت کا تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے، سوائے شوہر کے۔ شوہر کے لیے چار مہینے دس دن ہیں۔ یہ حدیث سوگ کی مدت، عورت کے شرعی آداب اور عملی پیروی کا خوب واضح نمونہ ہے۔ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے عمل سے بتایا کہ حکمِ نبوی کو ذاتی غم پر مقدم رکھا جائے گا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- والد جیسے قریبی رشتہ دار پر بھی تین دن سے زیادہ شرعی سوگ نہیں۔
- شوہر کے لیے سوگ کی مدت چار مہینے دس دن ہے۔
- ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے حکم بتانے کے لیے خوشبو استعمال کی۔
- دینی حکم کو ذاتی کیفیت پر مقدم رکھنا چاہیے۔
